بنگلورو،25؍اگست (ایس او نیوز) کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما یا نوجوان ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ان تمام پر یہ ذمہ داری ہے کہ آپسی اختلافات کو فراموش کرکے سکیولرزم اورجمہوریت کی بقاء کے لئے پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگیں اور جو بھی ناراضی اور اختلافات ہیں انہیں پارٹی کے داخلی پلیٹ فارم پر نپٹانے کی کوشش کریں - یہ مشورہ سینئر کانگریس رہنما اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمن خان نے دیا ہے -
کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس کے دوران بعض قائدین نے اختلافات کی خبروں اور آخر میں سونیا گاندھی کی طرف سے پارٹی کی صدارت پر بنے رہنے پر اتفاق پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر رحمن خان نے کہا کہ ملک میں موجودہ جو حالات ہیں ان میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور معاشی تنزلی کے درمیان کانگریس پارٹی کے سبھی قائدین کی یہ بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو مضبوط کریں - ملک کے قد آور رہنماؤں مہاتماگاندھی، جواہر لال نہرو اوردیگر نے فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد کی اورقربانیاں پیش کیں - کسی بھی سیاسی نظام کے تحت اختلاف رائے ہونا عام بات ہے لیکن یہ اختلاف انتشار کا سبب نہیں بننا چاہئے-
انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی میں جو بھی واقعات پیش آئے وہ ملک کیلئے اچھے نہیں ہیں اس سے لوگوں میں اچھا تاثر قائم نہیں ہوگا- انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ حلقوں سے ہونے والی تنقید کو مثبت انداز سے لے کر اصلاح کا جذبہ پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ تنقید کرنے والے پارٹی کی تنقیدی شرائط کے دائرے میں رہ کر اگر اپنی رائے پیش کریں تو اس کو اصلاحی نقطہئ نظر سے دیکھا جانا چاہئے-
کانگریس کی صدارت پر بنے رہنے کے سونیا گاندھی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے اس فیصلے سے جو مسئلہ پیدا ہوا تھا وہ سلجھ گیا ہے اب پارٹی کے تمام قائدین کو چاہئے کہ ان کی قیادت میں پارٹی کو مستحکم کرنے میں لگیں - کانگریس پارٹی کو قومی سطح پر مضبوط کرنے کے لئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا- صرف بعض حلقوں کی طرف سے اگر یہ الزام لگادیا جائے کہ کانگریس پارٹی ایک خاندان کی ہوکر رہ گئی تو یہ بات غلط ہے -ملک کی بہت ساری سیاسی پارٹیاں بشمول عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، آرجے ڈی، ڈی ایم کے اور برسراقتدار بی جے پی بھی شخصیتوں کے دارومدارپر چلتی ہیں - ایسا نہیں کہ مودی کے بغیر بی جے پی اپنے آپ مضبوط ہوگئی- ملک میں بی جے پی کو مستحکم کرنے میں مودی کا بہت بڑا دخل رہا ہے- بی جے پی میں اندرونی اختلافات ہیں لیکن جس طرح کانگریس کے اختلافات کو مختلف حلقوں سے اچھالا جاتا ہے ویسا نہیں ہونا چاہئے-مودی کے سبب بی جے پی صرف فرد واحد پر منحصر سیاسی جماعت بن چکی ہے جس کے سبب مودی نے ڈکٹیٹرانہ رویہ اختیار کرلیا ہے -
اس صورتحال کا کانگریس پارٹی کو فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ یہ حقیقت سب پر ظاہر ہوچکی ہے کہ بی جے پی پر مودی نے جس طرح کا غلبہ برقرار رکھا ہے اسے دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں مودی کے بغیر بی جے پی کا وجود بے معنی ہوکر رہ جائے گا-ملک کے ہر فیصلے میں جس طرح کے آمرانہ رویے کا مظاہرہ مودی کی طرف سے قومی مفادات کی پروا کئے بغیر کیا جارہا ہے اس سے ہر بار ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے- ملک کو فائدہ پہنچانے کی خاطر اگر سیاسی پارٹی کو ایک خاندان کی طرح نہ سمجھا گیا تو یہ ڈکٹیٹر شپ میں بدل کر رہ جائے گی- کانگریس کی دیرینہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے تمام کو اعتماد میں لے کر اپنا سفر آگے بڑھایا ہے - اب بھی یہی ہوناچاہئے تمام تر اختلافات کو فراموش کرکے آگے بڑھنے اور ملک کو آگے لے جانے کی فکر کے ساتھ کام کریں -